یہ قربتیں تو بڑے امتحاں لیتی ہیں
فراز
کسی سے واسطہ رکھنا تو دور کا رکھنا
یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی
آنکھوں کے
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں
کہیں
یہ کیا کہ مِلو تو ایک پل کو
صدیوں میں اکیلا چھوڑ جاؤ
یہ کون لوگ اندھروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تیری یادوں کے ڈھلے
بھی نہیں
یا رب کہیں سے بھیج دے سورج کاسائباں
بادل کی آنکھ ہے میرے کچے مکان پر
یاد رکھو تو
دل کے پاس ہیں ہم
بھول جاؤ تو
فاصلہ بہت ہے
یوں گلیوں
بازاروں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں
جیسے اس دنیا
میں سبھی آئے ہوں عمر گنوانے لوگ
یہ سوچ کراب کوئی منانے نہیں آئے گا
ہر بات پے روٹھ جانے کی عادت نہیں
رہی
یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو
تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا
فسانہ
یہ اور بات کہ وہ لَب تھے پھول سے
نازک
کوئی نہ سہہ سکے ، لہجہ کرخت ایسا
تھا
یہ میرا حوصلہ ہے تیرے بغیر
سانس لیتاہوں بات کرتا ہوں
یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار
ہوتا
یاروں کی مُحبت کا یقیں کر لیا میں
نے
پھُولوں میں چھُپایا ہوا خنجر نہیں
دیکھا
یوں مجھے بھج کے تنہا سرِ بازارِ
فریب
کیا مرے دوست میری سادہ دلی بھول
گئے
یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اترا
کوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا
ہے۔۔۔!
یہ آرزو تھی کہ تجھے گل کے روپرو
کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری
محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں
میری
یہ مِرا ہُنر تیری خوشبوؤں سے
وابستہ
میرے سارے لفظوں پر تیری حکمرانی ہے
Post a Comment
0Comments