وہ مرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
میں
ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا
وہ جو اک بات بہت تلخ کہی تھی اس نے
بات
تو یاد نہیں،یاد ہے لہجہ اس کا
وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی
کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
وہ کر نہیں رہا تھا مری بات کا یقین
پھر
یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے
وقت جب لکھے گا اپنا فیصلہ تب دیکھنا
سینکڑوں
خوش فہمیوں کو منہ کھلے رہ جا ئیں گے
وہ مجھے بھول ہی گیا ہو گا
اتنی
مدت خفا نہیں رہتا
وہ آنکھوں انکھوں میں کرتے ہیں اس طرح باتیں
کہ
کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہو تی
ورنہ تصویر میں کیا تھا جسے مانا جاتا
اسکی
مشہوری ذرا آنکھ بھر آنے سے ہوئی
وہی ہوا ہے،جو ہوتا ہے سونے والوں سے
اے
میرے دل! تیرے پہلو نشیں چلے گئے ہیں
وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
سو
اس کا جشن بہ صد اہتمام کیا میں نے
وہ ہاتھ ہاتھ میں آنے کی دیر ہوتی ہے
ستارے
اور کسی رخ پہ چلنے لگتے ہیں
وقت
خوش خوش کا ٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو
پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
وہ تو آنکھوں نے مخبری کر دی
ورنہ
میں مانتا کہ میں رویا؟
وہ دن بھر کچھ نہیں کرتے ہیں،میں آرام کرتا
ہوں
وہ
اپنا کام کرتے ہیں،میں اپنا کام کرتا ہوں
وہ جاتے ہوئے خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے
اس
کو تو بچھڑنے کا سلیقہ بھی نہ آیا
وفاوَں کا بھرم ٹوٹے تو کیوں زندہ رہے کوئی
کہ
جب دستار گر جائے تو سر اچھے نہیں لگتے
وفا کی لاج میں مجھ کو منا لیتے تو اچھا تھا
انا
کی جنگ میں اکثر جدائی جیت جاتی ہے
وہ بھولتا ہے نہ دل میں اتارتا ہے مجھے
ہمیشہ
مار محبت کی مارتا ہے مجھے
وہ یک بیک ملا تو بہت دیر تک ہمیں
الفاظ
ڈھونڈنے کی بھی مہلت نہیں ملی
وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جا ئے گی الفت مجھ سے
اک
نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو
Post a Comment
0Comments