ط Toy

 

طالب دست ہوس اور کئی دامن تھے
ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا
مصطفیٰ زیدی


طرفہ تر لکھ غزل اس بحر میں اک اور نصیرؔ
کرتے ہیں گوہر معنی کو سخنداں پیدا
شاہ نصیر

طور پر راہ وفا میں بو دیئے کانٹے کلیم
عشق کی وسعت کو مسدود تقاضا کر دیا
احسان دانش

طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
گئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا
اکبر الہ آبادی

طوق گلوئے دل ہے زلف صنم کا ہر خم
مشہور یہ مثل ہے یک سر ہزار سودا
سراج اورنگ آبادی

طور پر چھیڑا تھا جس نے آپ کو
وہ مری دیوانگی تھی میں نہ تھا
عبدالحمید عدم

طلب اس کی ہے کہ جو سرحد امکاں میں نہیں
میری ہر راہ میں حائل ہے بیاباں اپنا
ضیا جالندھری

طرب ہے شیوۂ رندان عاقبت نا شناس
جو گل نہ تھا وہ گلستاں میں مسکرا نہ سکا

طلب مدعا ہوس ناروا جو کبھی کچھ کہا وہ ہوئے بے مزہ
وہ بجائے جزا سخن ناسترا شجر حرص کا ثمر خام تھا
آرزو لکھنوی

طلب سے کس کو رہائی ہے بحر ہستی میں
اگر صدف ہے تو اس کو بھی ہے گہر کی طلب
نظیر اکبر آبادی

طلب کے عقدۂ مشکل کوں کھولے
جو کوشش کی کمر یکبار باندھے
سراج اورنگ آبادی

طلسم زار شب ماہ میں گزر جائے
اب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے

طرب کی بزم میں کم کم فسردگی اے شاذؔ
کہیں مزاج کی افتاد ہی نہ بن جائے
شاذ تمکنت

طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے
کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے
آرزو لکھنوی

طلب کے ساحلوں پہ جلتی کشتیاں بتائیں گی
شناوری پہ اعتبار کرنے والے کیا ہوئے

طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کے

کیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا

میر تقی میر

طول غم و آزار نے ناشاد مجھ کو کر دیا
ہے ایک گھنٹہ ایک دن ہے اک مہینہ اک برس
 نوح ناروی

طبیبوں سے علاج عشق ہوتا ہے نپٹ مشکل
ہمارے درد کی ان سے نہیں ہونے کی دوا ہرگز
 تاباں عبدالحی

طرح خوش ناز خوش اس کی ادا خوش
خوشا ہم جو نہ رکھے ہم کو ناخوش
 میر تقی میر

طرح طرح سے کوئی نام شاذؔ لکھتا تھا
ہتھیلیوں پہ حنائی حروف تھے گلکار
 شاذ تمکنت

طول کھینچا بیان نک سک نے

میں لکھا اس کے بال بال کا شعر
 مصحفی غلام ہمدانی

طعنے دے کر لوگ لگاتے ہیں کیوں آگ میں آگ
بستی والے کیوں کرتے ہیں بیراگن کو تنگ
 عرفانہ عزیز

طواف کعبۂ دل کر نیاز و خاکساری سیں
وضو درکار نئیں کچھ اس عبادت میں تیمم کر
 آبرو شاہ مبارک


طور سینا بنا دیا دل کو
اف رے کافر تری نظر کی آگ

 

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn more
Ok, Go it!