Noon ن

 

نازک مزاج ہیں وہ پری رخ کچھ اس قدر

    پائل جو پہنی پا میں تو چھم چھم سے ڈر گئے

 

 نہ وہ حسین،نہ میں خوبرو،مگر اک ساتھ

  ہمیں جو دیکھے تو وہ دیکھتا ہی رہ جائے

 

 نہ طنز کر کہ کئی بار کہہ چکا تجھ سے

   وہ میری پہلی محبت تو میرا ماضی تھا

 

 نظر آئے تو اسے دیکھتے رہنا کہ وہ شخص

    خواب ہے اور مکرر نہیں ہونے والا

 

  نازک تیرے مریضِ محبت کا حال ہے

    دن کٹ گیا تو رات کا کٹنا محال ہے

 

 نہ بک سکی بازارِ مصلحت میں کبھی

  میری زباں کی صداقت میری انا کی طرح

 

۷نہ آنکھوں میں آنسو نہ لب پر ہنسی ہے

   تری زندگی بھی کوئی زندگی ہے

 

  نا کامِ عشق ہوں سو میرا دیکھنا بھی دیکھ

   کم دیکھتا ہوں اور غضب دیکھتا ہوں میں

 

  نا سمجھ جہاں والے کیا بھلا یہ سمجھیں گے

عشق بھی جو کرتے ہیں سیکھ کر کتابوں سے

 

 نہ کوئی شعر،نہ کوئی غزل،نہ نام تیرا

قلم کی نوک پہ کیسا سکوت طاری ہے

 

 نہ میں اپنا ہوں،نہ تیرا ہوں،نہ اس دنیا کا

میں فقط عشق ہوں،رہتا ہوں پری خانوں میں

 

 نہ گل کھلے ہیں،نہ ان سے ملے،نہ مے پی ہے

      عجیب رنگ میں اب کہ بہار گزری ہے

 

  نہ کمالِ عہدِ شباب ہے،نہ حصولِ حسن و جمال ہے

     تمہیں دل نواز بنا دیا،یہ مری نظر کا کمال ہے

 

  نئی منزلوں کی تلاش تھی سو بچھڑ گئے

   میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا ترا کیا بنا

 

 نہ اپنا نام،نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

   کہ اب کی بار میں رستہ بدل کے آیا ہوں

 

 نکل کر بند کمرے سے ذرا بازار میں آوَ

اگر تم دیکھنا چاہو تماشا ہو بھی سکتا ہے

 

 نہیں پتھر نہیں مجھ پہ دھکتی آگ برساوَ

مرا یہ جرم ہے میں روشنی کا ساتھ دیتا ہوں

 

نہیں مصروف میں اتنا کہ گھر کا راستہ بھولوں 

نہ ہو جب منتظر کوئی،تو گھر اچھے نہیں لگتے

 

نہیں ہے کوئی بھی منزل اگر مری منزل

تو پھر یہ پاوَں تلے راستے کہاں کے ہیں

 

نہیں بھی ہوں تو دیواروں میں دروازے بنا دیں

فصیلِ شہر پر جو سحر گر بیٹھےہوئے ہیں

 

نگاہیں میرے گرد آلود چہرے پر ہیں دنیا کی

جو پوشیدہ ہے باطن میں وہ جوہر کون دیکھے گا

 

نظر انداز  کرنے کی سزا دینا تھی تجھ کو

ترے دل کیں اتر جانا ضروری ہو گیا تھا

 

نہیں مروں گاکسی  جنگ میں یہ سوچ لیا

میں اب کی بار محبت میں مارا جاوَں گا

 

نشے کی طرح محبت بھی ترک ہوتی نہیں

جو ایک بار کرے گا،وہ بار بار کرے گا

 

 ناصحا! تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

روز آ جاتا ہے،سمجھاتا ہے،یوں ہے،یوں ہے

 

 نامہ گیا کوئی،نہ کوئی نامہ بر گیا

ان کی خبر نہ آئی،زمانہ گزر گیا

 

نامہ تو ہم نے بھیجا ہے اس صبا کے ہاتھ

اب دیکھیئے لگے نہ لگے آشنا کے ہاتھ

 

 نامہ بر حال مرا ان سے زبانی کہنا

خط نہ دینا کہ وہ اوروں کو دکھا دیتے ہیں

 

 نامہ بر کھل کے بتا،کر نہ خبر کے ٹکڑے

ہوئے جاتے ہیں،ادھر جاں کے جگر کےٹکڑے

 

 نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی

وہ آئے،آ کے چلے بھی گئے،ملے بھی نہیں

 

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn more
Ok, Go it!